بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْڪَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ…
(اے رسول) یہودیوں میں بعض لوگ ایسے ہیں جو باتوں کو ان کے موقع محل سے بدل ڈالتے ہیں، کہتے ہیں ہم نے سن لیا لیکن اطاعت…
👇 مکمل آیت دیکھنے کے لیے کلک کریں
مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْڪَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ، وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ، وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِڪُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا
(اے رسول) یہودیوں میں بعض لوگ ایسے ہیں جو باتوں کو ان کے موقع محل سے بدل ڈالتے ہیں، کہتے ہیں ہم نے سن لیا لیکن اطاعت نہیں کریں گے اور (وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ) آپ سنیے (لیکن اللہ کرے) آپ سن نہ سکیں اور وہ اپنی زبانوں کو موڑ کر دین (اسلام) پر طنز کرنے کی نیّت سے (آپ سے گفتگو کرتے وقت) راعنا بھی کہتے ہیں اور اگر وہ یہ کہتے ہم نے سن لیا اور ہم اطاعت کریں گے اور (اِسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ کی جگہ صرف) اِسْمَعْ کہتے (یعنی آپ سنیے) اور (راعنا کی جگہ) اُنْظُرْنَا (ہماری طرف نظر کیجیے) کہتے تو ان کےلیے بہتر اور مناسب ہوتا، لیکن (انھوں نے ایسا نہیں کیا تو) اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کر دی لہٰذا قلیل ہی لوگ ہوں گے جو ایمان لائیں گے۔
(النساء 4:46)
(O Prophet!) Among those who are Jews, there are some who displace words from (their) right places and say: "We hear your word and disobey," and (they also say) "Hear and let you hear nothing." And (Saying) Ra'ina with a twist of their tongues and as a mockery of the religion (Islam). And if only they had said: "We hear and obey", and "Do make us understand," it would have been better for them, and more proper; but (they did not do this then) Allah has cursed them for their disbelief, so they believe not except a few.
(النساء 4:46)
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ…
ایک عورت نے بکری پتھر سے ذبح کر لی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے اس کے کھانے…
👇 مکمل حدیث دیکھنے کے لیے کلک کریں
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً، ذَبَحَتْ شَاةً بِحَجَرٍ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَ بِأَكْلِهَا. وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ يُخْبِرُ عَبْدَ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبٍ بِهَذَا.
ایک عورت نے بکری پتھر سے ذبح کر لی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے اس کے کھانے کا حکم فرمایا ۔ اور لیث نے بیان کیا ، ان سے نافع نے بیان کیا ، انہوں نے قبیلہ انصار کے ایک شخص کو سنا کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خبر دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ کعب رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی تھی پھر اسی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
(صحیح بخاری 5504)
A lady slaughtered a sheep with a stone and then the Prophet (ﷺ) was asked about it and he permitted it to be eaten. Laith, Nafi'o, A man from Ansaar, Hadrat Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما with referenceto the prophet ﷺ narrates this episode of Hadrat Ka'b's slave-girl.
(صحیح بخاری 5504)
💡 اصلاحی اور سیرت کے موضوعات، نیوز